منگلورو:5/اپریل(ایس اؤنیوز)پولس کے مبینہ ظلم کا شکار ہوکر اپنے گردوں سے ہاتھ دھونے والے احمد قریشی کو انصاف دلانے اور ظلم ڈھانے والے پولس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ لے کر پولس کمشنر دفترکے روبرو احتجاج کرنے کے دوران کل منگل کو پولس نے پی ایف آئی کے 98کارکنوں کو گرفتارکیا تھا ان میں سے 72کارکنوں کو منگل کی رات کو ہی رہا کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کئے گئے کارکنوں کو وینلاک اسپتال میں طبی جانچ کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اس کے بعد گرفتار شدہ 98میں سے 72کو رہا کیا گیا ہے۔اور 26 کارکنوں کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔
احمد قریشی کا علاج نجی اسپتال میں کرنے قریشی کے وکیل کا مطالبہ
سی سی بی پولس کے ظلم کی وجہ سے گردوں کو کھونے والے قریشی کو مینگلور کے سرکاری وینلاک اسپتال کے آئی سی یو میں ایڈمٹ کیا گیا ہے، مگر قریشی کے وکیل نے مطالبہ کیا ہے کہ احمد قریشی کو نجی اسپتال منتقل کیا جائے اور بہتر ماہرڈاکٹر کی مدد سے اس کا علاج کیاجائے۔ وکیل دینیش ہیگڈے اُلے پاڑی نے بتا یا کہ معاملے کو لے کر عدالت میں درخواست دی گئی ہے، احمد قریشی اس وقت پولس کے ظلم سے زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے اور علاج میں معمولی غفلت بھی اُس کے لئے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ایڈوکیٹ ہیگڈے نے بتایا کہ پولس ظلم سے ہوئے قریشی پر جو زخموں لگے ہیں، اُس کو پولس کسی حادثے کے زخم بتا کر جھوٹے دستاویزات تیار کی ہے، اور اب اپنے بیان کی حمایت کے لئے جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے،ایڈوکیٹ ہیگڈے نے وینلاک اسپتال کے ذریعے جھوٹے دستاویزات تیار کرنے کابھی خدشہ ظاہر کیا۔ اور کہا کہ اسی لئے وینلاک اسپتال کے علاج پر مجھے اعتماد نہیں ہے،لہٰذا فوری طورپر قریشی کو نجی اسپتال میں داخل کیا جانا چاہئے۔ ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ انہوں نے عدالت کو دی گئی تحریری درخواست میں اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ جب تک قریشی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہوجاتا، تب تک پولس اُسے کسی بھی طرح کی کوئی تکلیف نہ دے۔